ایک حرف آگہی اور میں

Poet: Fatima Ibraheem By: Fatima Ibraheem, Lahore

ایک حرف آگہی اور میں
ایک حرف بے خودی اور تم

ایک لفظ میں لمبی داستاں
ایک جاں اور اتنے سارے غم

سوچتے ہیں جائیں اب کہاں
سارے رستے ہو گئے ہیں گم

حرف آخر اور حرف ابتداء
بیچ کی باتیں سبھی ختم

جب سے دل میں درد ہے رہنے لگا
دل کے خانے ہو گئے ششم

جتنا چاہو درد مجھ سے بانٹ لو
دل میں جگہ اب نہیں کچھ کم

جب سے میری روح فرقاں ہو گئی
کیا کہیں کیسے ہیں زندہ ہم

خواہشیں سب ہو گئی مسمار ہیں
سارے ارماں توڑ گئے دم

آبیاری آنکھوں سے ہو جائے گی
دل میں پھر سے ڈالئے آرزوئے تخم

ایک حرف آگہی اور میں
ایک حرف بے خودی اور تم

Rate it:
Views: 1000
18 Aug, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL