ایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہے
Poet: صادق By: صادق, Daduایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہے
زلف و زنجیر سے یک گونہ شغف کیا کم ہے
شوق کے ہاتھ بھلا چاند کو چھو سکتے ہیں
چاندنی دل میں رہے یہ بھی شرف کیا کم ہے
کون اس دور میں کرتا ہے جنوں سے سودا
تیرے دیوانوں کی ٹوٹی ہوئی صف کیا کم ہے
آگ بھڑکی جو ادھر بھی تو بچے گی کیا شے
شعلۂ شوق کی لو ایک طرف کیا کم ہے
میں نے ہر موج کو موج گزراں سمجھا ہے
ورنہ طوفانوں کا رخ میری طرف کیا کم ہے
کالی راتوں میں اجالے سے محبت کی ہے
صبح کی بزم میں اپنا یہ شرف کیا کم ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






