ایک رات
Poet: Farah Ejaz By: Farah Ejaz, Karachiرات کے اس پہر
ہم گھر سے نکل آئے
سارا شہر سو رہا تھا
ایکسوائے ہمارے
بے مقصد ہی یونہی
آوارگی پر دل اُکسا رہا تھا
نیندیا بھی روٹھی روٹھی سی تھی
من بھی تو گھر میں لگ نہیں رہا تھا
سو ہم تنہا ہی گھر سے چل پڑے
گھپ تاریک اماوس کی رات تھی
بدلیوں نے سارا آسمان ڈھکا ہوا تھا
چار سو میرے
ایک عجب سی خاموشی چھائی تھی
مدھم ٹمٹماتے دیے کی مانند
اسٹریٹ لائیٹس
ماحول کو ناکام روشن کرنے کی
کوشش کر رہی تھی
پر تاریکی تھی کہ
اور بڑھ رہی تھی
زرد پتے قدموں تلے میرے
چُر مُرا رہے تھے
بس انہی کی دم توڑتی
چیخیں تھیں فقط
ورنہ چاروں طرف خاموشی چھائی تھی
سڑک بھی سنسان تھی اور
میرے اندر بھی ایک سناٹا سا تھا
ان لمحوں میں سنگ فقط
میرا سایا تھا
بے مقصد ہی
یونہی میں چل رہی تھی
ہر سوچ سے دامن بچا کر
خود میں ہی کھوئی کھوئی سی
یادوں سے پیچھا چھڑانے کی
کوشش کر رہی تھی
نہ میں کچھ
اچھا سوچ رہی تھی
نہ برا سوچ رہی تھی
شاید خود سے ہی بھاگ رہی تھی
ہلکی بوندا باندی
اب شروع ہوچکی تھی
کبھی کبھی بادل بھی گرج کر
اپنی موجودگی کا اعلان کر رہے تھے
جب زور پکڑا آسمان پر
گرتے پانی کے قطروں نے
رفتار ہماری سست پڑنے لگی
بارش ہمیں بھگونے لگی
من پر چھائی یاسیت
چھٹنے لگی
ہمیں پرسکون کرنے لگی
کچھ دیر وہیں رک کر
ہم بارش میں بھیگتے رہے
من کو بھی سیراب کرتے رہے
پھر واپسی کی راہ لی
مگر بارش یونہی برستی رہی
یونہی برستی رہی ۔۔۔۔
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






