ایک سوال
Poet: Yusaf Anjum By: Yusaf Anjum, lahoreکیا بنوں گا میں بڑا ہو کر
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں ڈاکٹر
اس میں عزت بھی ہے اور راحت بھی
کروں میں خدمت کماؤں دولت بھی
یُوں میں سُکھ سے رہوں گا جیون بھر
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں ڈاکٹر
کیا بنوں گا میں بڑا ہو کر
امّی چاھتی ہیں میں بنوں ڈاکٹر
ابُو کہتے ہیں بنو انجینئر
پر میرے شوق کی نہ ان کو خبر
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں پائلٹ
تیز ہواؤں میں میں اُڑاؤں جیٹ
دیکھُوں گا زمیں فضاؤں سے
کھیلُوں گا وسیع خلاؤں سے
شوق پُورے کروں گا یُونہی سب
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں پائلٹ
کیا بنوں گا میں بڑا ہو کر
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں تاجر
یُوں میں دولت بہت کماؤں گا
جو بھی چاہُوں خرید پاؤُں گا
بنگلہ گاڑی بُہت سے ہوں نوکر
ہر خُوشی ہو گی مُجھ کو میّسر
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں تاجر
کیا بنوں گا میں بڑا ہو کر
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں لیڈر
ہوگی شہرت میری زمانے میں
ہوگی عزت میری زمانے میں
میرے بھاشن سنیں گے سب گھر گھر
لوگ ناچیں میرے اشاروں پر
میں تو چاہتا ہوں میں بنوں لیڈر
پاس ہی اِک قحط زدہ بچّہ
جسم لاغر تو چہرہ مُرجھایا
کتنے ہی دِن سے کُچھ نہیں کھایا
خُشک سالی ہے آسمانوں پر
اشک تک آنکھ میں نہیں آیا
اپنی سانسوں کو مجتمع کر کے
ساری دنیا سے پوچھتا ہے سوال
کیا میں بھی ہو سکوں گا بڑا
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






