ایک طرف ہو محبت
Poet: By: Khalid Pervez, Pasrur Saukin Windایک طرف ہو محبت تو برباد کرتی ہے
دو طرف ہو محبت تو شاد کرتی ہے
بنا دیتی ہے لیلیٰ اور مجنوں کے افسانے
محبت ہی زمانے میں برپا فساد کرتی ہے
کوئی ہوتا ہے بےخبر کوئی ہوتا ہے باخبر
یہ اپنی آرزو کی ہر گھڑی فریاد کرتی ہے
بدل بدل کے رنگ دیتی ہے نگاہوں کو دھوکا
غم میں قید کسی کو غم سے آزاد کرتی ہے
جو دیتے ہیں سچی محبت کے لئے جان خالد
بعد مرنے کے بھی انہیں دنیا یاد کرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








