ایک فلسطینی بچے کی صدا
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)دل کی دنیا اجڑ چکی کیوں سوچتا ھوں میں
یہ دنیا میرے لیے اجنبی کیوں سوچتا ھوں میں
مکان مخدوش حال ھر طرف کشت و خون پھیلا ھوا
خاندان کی قتل و غارت گری کیوں سوچتا ھوں میں
اداس چہرے بہتے آنسو اور چیخ و پکار ھر طرف
میرے فلسطین کی یہ تصویر ھی کیوں سوچتا ھوں میں
گولیوں اور بموں کی دھڑک و کڑک اور راکٹوں سے حملے
یہ متعفن میتیں صحن میں ھی کیوں سوچتا ھوں میں
یہ دلخراش داستانیں یہ روتی ھوئ تقدیر ھر طرف
یہ زندگی ھے یا بھیانک خواب ھی کیوں سوچتا ھوں میں
جہازوں کی توپوں سے گولوں کی بمباری میں کوئی وقفہ نہیں
سمندر پہاڑ درخت اور پرندے خاموش ھی کیوں سوچتا ھوں میں
سکول ھسپتال برباد بازار تباہ ھر طرف ملبہ ھی ملبہ
ظالموں کے دل اتنے شقی کیوں سوچتا ھوں میں
انسانی حقوق کے علمبردار‘ یو این او اورمسلم ممالک
یہ سب مزمتوں کی راگ ھی کیوں سوچتا ھوں میں
معصوم بچوں اور عورتوں کے کھلے قتل عام پر
دنیا کی اتنی بےحسی کیوں سوچتا ھوں میں
یہود فلسطین کی زمینوں پہ قبضے کی ھوس میں مبتلا
ظالم دنیا فلسطین سے نظریں چراتی کیوں سوچتا ھوں میں
میں اس بدنصیب دنیا کا بدنصیب بچہ اک سوال پوچھتا ھوں
اس دنیا میں آنا کیا میرا قصور ھے یہی کیوں سوچتا ھوں میں
رمضان کے سخت روزوں میں ان ظالموں کے آگے نہیں جھکے
میری قوم آزمائش میں پوری اتری کیوں سوچتا ھوں میں
اے زات برحق میں تیری رحمت سے ناامید نہیں ھوں
تیری زات اقدس اکدن امن لائے گی کیوں سوچتا ھوں میں
یقین ھے مجھے قیامت کے روز میرا خدا ان سے ضرور حساب لے گا
ان کی بربریت اور کھلی دھشت گردی کو کیوں سوچتا ھوں میں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






