ایک مدت سے بے خواب ہیں آنکھیں!!
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آبادوحشت ایسی ہے کہ جیسے کوئی بیاباں ہوں
اداسی ایسی کہ صدیوں سے ویراں ہوں
تمہں معلوم ہو میری حالت کا سبب شاید
لوگ کہتے ہیں میں کچھ پریشاں ہوں
حرف لفظ تخیل سبھی لٹا بیٹھے ہیں
میں وہ شہر جو بربادی پہ خاموشاں ہوں
حریف تو حریف احباب بھی قاتل نکلے
خود اپنی رقابت پہ میں حیراں ہوں
ایک مدت سے بے خواب ہیں آنکھیں
ایک مدت سے تیری تعبیر میں سرگرداں ہوں
ضبط لازم ہے ورنہ بے تاب ہیں آنسو
چاہ کر بھی تیرے نام سے گریزاں ہوں
تشنگی ایسی کہ تشنگی بھی تڑپ جاۓ عنبر
میں اپنی ذات میں اک شام ء غریباں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






