ایک منصوبہ دل میں بناتا ہوں میں

Poet: HUZAIFA ASHRAF By: Huzaifa Ashraf Noshahi, Lahore

ایک منصوبہ دل میں بناتا ہوں میں
خوف کو دل سے اپنے بھگاتا ہوں میں

ایک وہ ہی تو ہے زندگی کا سبب
جانے لگتا ہے تو گِڑگِڑاتا ہوں میں

کرتی اس پر نہیں آہ و زاری اثر
آنسوؤں کو بھی اپنے چُھپاتا ہوں میں

رکھتا دہلیز پر ہوں سبھی اپنے غم
دور بیٹھے ہی انکو بھگاتا ہوں میں

رہتی خود پر نہیں جب کوئ دسترس
پہلے روتا ہوں پھر مسکراتا ہوں میں

ہے مجھے علم کہ تو بھی میرا نہیں
تو میرے ساتھ ہے یہ جتاتا ہوں میں

خود ہی سہہ لیتا ہوں ہجر کا غم بھی میں
اور پھر بھی تجھے ساتھ پاتا ہوں میں

کب محبت اسے ہے حذیفہ مگر
نام لکھ لکھ کے اسکا مٹاتا ہوں میں

Rate it:
Views: 649
27 Dec, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL