ایک ناکام آرزو کرتا رہا
Poet: بلال شیخ By: Bilal Sheikh, Lahoreایک ناکام آرزو کرتا رہا
مہ رخوں کی جستجو کرتا رہا
گرچہ بالوں میں سفیدی آ گئی
خون ِدل کو سُرخرو کرتا رہا
جب بھی اُس کی یاد آتی ہے مجھے
دوستوں سے گفتگو کرتا رہا
تیری اک تصویر ہاتھوں میں لیے
آئنے کے روبرو کرتا رہا
میں نے لوگوں کو بتایا ہی نہیں
جو بھی میرے ساتھ تُو کرتا رہا
جو دکھائے تھے مجھے انداز سب
میں وہی کچھ ہو بہو کرتا رہا
ساحلوں پر آ گئی کشتی بلال
دل کے دریا کو لہو کرتا رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






