ایک کچّے مکاں سے گزرا ہوں
Poet: محمد محمود By: MOHAMMAD MEHMOOD, Anantnagایک کچّے مکاں سے گزرا ہوں
میں کسی داستاں سے گزرا ہوں
عشق سجدے میں سر جھکایا ہے
درد آہ و فغاں سے گزرا ہوں
وہ زمیں سے لپٹ گئی برسوں
اور میں آسماں سے گزرا ہوں
سرخ ہونے لگے ہیں چھالے بھی
جانے کس کس نشاں سے گزرا ہوں
دل عبادت کا ہوگیا مائل
میں ترے آستاں سے گزرا ہوں
پھول رکھنے لگا ہوں دامن میں
شوق کے پاسباں سے گزرا ہوں
ایک صحرا کی ریت سے اکثر
اور جانے کہاں سے گزرا ہوں
خوف کھاتی ہے جاں دلیری تک
میں اچانک وہاں سے گزرا ہوں
چاند تارے چھپا لئے خود میں
اور آتش فشاں سے گزرا ہوں
چار پل کے یقین کے صدقے
جانے کتنے گماں سے گزرا ہوں
روشنی کی طلب نہیں مجھ میں
دیپ کے سائباں سے گزرا ہوں
بزم یوں ہی نہیں سجی محمود
آگ جلتی، دھواں سے گزرا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






