ایک ہم تھے سر پِھرے جو جل بُجھے لوگوں میں تھے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہایک ہم تھے سر پِھرے جو جل بُجھے لوگوں میں تھے
ورنہ جِس کو دیکھتے معیار کے لوگوں میں تھے
کون ظالِم حُکمراں کی بات کا دیتا جواب
لوگ جِتنے تھے وہاں سب سر کٹے لوگوں میں تھے
کون سی بستی ہے یہ, ہم کِس نگر میں آ گئے؟؟
کل تلک رنگوں میں تھے ہم' پُھول سے لوگوں میں تھے
دُور رہتے تھے مگر وہ پِھر بھی تھے کِتنا قریب
کتنا اچھّا دور تھا جب فاصلے لوگوں میں تھے
اُس نے بستی چھوڑ دی یہ فیصلہ اچھّا لیا
ایسے اُجلے لوگ ہم سے ملگجے لوگوں میں تھے
ہم نے چھیڑا تھا ترنُّم میں کوئی مِیٹھا سا گیت
ہاں مگر یہ تھا کہ ہم کُچھ بے سُرے لوگوں میں تھے
نِیند آنکھوں سے چُرا کر لے گیا تھا ایک شخص
ایک مُدّت سے مُسلسل رتجگے لوگوں میں تھے
جل رہی تھی ساری بستی اور سب پُوجا میں تھے
خُود پسندی کے کُچھ ایسے سِلسِلے لوگوں میں تھے
قوم کی بربادِیوں کا اِک سبب یہ بھی رشِیدؔ
ذات کی تکمِیل کے ہی مرحلے لوگوں میں تھے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






