ایک ہم تھے سر پِھرے جو جل بُجھے لوگوں میں تھے

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہ

ایک ہم تھے سر پِھرے جو جل بُجھے لوگوں میں تھے
ورنہ جِس کو دیکھتے معیار کے لوگوں میں تھے

کون ظالِم حُکمراں کی بات کا دیتا جواب
لوگ جِتنے تھے وہاں سب سر کٹے لوگوں میں تھے

کون سی بستی ہے یہ, ہم کِس نگر میں آ گئے؟؟
کل تلک رنگوں میں تھے ہم' پُھول سے لوگوں میں تھے

دُور رہتے تھے مگر وہ پِھر بھی تھے کِتنا قریب
کتنا اچھّا دور تھا جب فاصلے لوگوں میں تھے

اُس نے بستی چھوڑ دی یہ فیصلہ اچھّا لیا
ایسے اُجلے لوگ ہم سے ملگجے لوگوں میں تھے

ہم نے چھیڑا تھا ترنُّم میں کوئی مِیٹھا سا گیت
ہاں مگر یہ تھا کہ ہم کُچھ بے سُرے لوگوں میں تھے

نِیند آنکھوں سے چُرا کر لے گیا تھا ایک شخص
ایک مُدّت سے مُسلسل رتجگے لوگوں میں تھے

جل رہی تھی ساری بستی اور سب پُوجا میں تھے
خُود پسندی کے کُچھ ایسے سِلسِلے لوگوں میں تھے

قوم کی بربادِیوں کا اِک سبب یہ بھی رشِیدؔ
ذات کی تکمِیل کے ہی مرحلے لوگوں میں تھے

Rate it:
Views: 498
04 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL