ایک ہی جام محبت کا پلایا جائے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاایسا کرتے ہیں کہ پیغام سنایا جائے
ایک ہی جام محبت کا پلایا جائے
اپنے افکار کی آنکھوں سے سمندر لے کر
کیوں نہ اک نقش ہی پانی پہ بنایا جائے
آؤ مل جل کے کوئی اپنا ہی چینل کھولیں
جس میں دنیائے محبت کو دکھایا جائے
اپنے آنگن میں کسی روز سجا کر سورج
موم کے جسم کو کچھ دیر جلایا جائے
حال میں حالِ شکستہ کی جھلک ہے دیکھو
قوم کو آئینہ خانے میں نہ لایا جائے
مجھ کو ماضی کے اندھیروں میں نہ جلنے دینا
میں دیا ہوں تو سرِ راہ جلایا جائے
روح کا کرب ہے آنکھوں سے جھلکتا وشمہ
کیسے اس حال میں دلہن کو سجایا جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






