ایک ہی خواب میں خوشبو سے بناؤ تو سہی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاایک ہی خواب میں خوشبو سے بناؤ تو سہی
اس کی تصویر کو آنکھوں سے لگا ؤ تو سہی
تُو نے جب پیار کی کرنوں سے نکلنا چاہا
اپنے آنچل کے دریچے میں چھپاؤ تو سہی
میں نے دن رات محبت کے جنوں میں جل کر
زندگی ! پیار سے کندن ہے بناؤ تو سہی
جلتے زخموں پہ مرے صبح کی شبنم رکھنا
اے مری رات اگر درد سناؤ تو سہی
مجھ پہ لگ جائے نہ الزام بغاوت یارو
شامِ غم بیت گئی اشک چھپاؤ تو سہی
میں بھی انسان ہوں، دل میں ہیں غموں کے چشمے
آنکھ میں درد کی یہ جھیل چھپاؤ تو سہی
رائیگاں جائے نہ یہ کار حیاتی وشمہ
رات کٹتی ہے ندی اشک بہاؤ تو سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






