اے آزمائشِ زندگی تیرے قصہ ہیں یہاں بے شمار

Poet: صباحت By: صباحت, Karachi

اے آزمائشِ زندگی تیرے قصہ ہیں یہاں بے شمار
پھرتے ہیں دلوں میں لئیے لوگ تیرے درد ہزار.

پیتی ہے یہاں ہر نفس جام تیرا
نہ رہا ہے کبھی کوئی تیری گرفت سے باہر.

مل کر تجھ سے کر تی ہیں جب تجھے قبول
توہ توڑتی ہیں دم خواہشیں ہزاروں دلوں مین بار بار.

کوئی تجھے سہہ گیا، کوئی مر گیا
کوئی مسکرا کر آنکھوں سے تیرا لہو پی گیا.

کسی کے لب ہوئے خاموش توہ
کوئی باتوں کا ہنر سیکھ گیا.

جڑکر تجھ سے جانا کسی نے نامِ زندگی توہ
کوئی اس مطلب کی تلاش میں زندگی بھر گم رہا.

وصی ہیں تیرے دریا کی گہرائیاں بہت کہ
نہ میری زبان اظہار کر سکی، نہ میرا قلم درج کر سکا.

Rate it:
Views: 745
18 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL