اے بلبلِ خوش نوا ! الودٰاع الودٰاع ( بنام مبلغِ اسلام شہید جنید جمشید)
Poet: UA By: UA, Lahoreاے بلبلِ خوش نوا ! الودٰاع الودٰاع
سوئے جنت چلا ہے وہ نغمہ سرا
لے کے نذرانہءِ نعت و حمد و ثناء
رب کے دربار میں رب کا پیار ا بندہ
اپنے محبوب رب سے ملاقات کا
ہر گھڑی جِسکے دِل میں تجسس رہا
اپنے رب کو پکارا ہے تو نے جہاں
رب کی قربت کو پایا ہے تو نے وہاں
تیرے رب نے سنی تیری ہر التجاء
رتبہءِ عالی تجھ کو کِیا ہے عطا
شاہِ عالم کا بن کے رہا تو گدا
رب نے شاہوں سے تجھ کو سوا کردیا
زیست میں بھی ہوئی نیک نامی بہت
تیری شہرت کا شہرہ ہوا جابجا
موت بھی خوب پائی بحکم خدا
تو شہیدوں میں شامِل ہوا مرحبا
چاہنے والے تجھکو تیرے پرستار
جِن سے بچھڑا ہے تو رودیئے زار زار
سوئے منزل چلا تو جنہیں چھوڑ کر
انکے دِل سوگوار ، چشمِ نم اشکبار
رب نے تجھکو کیا رتبہ ارفع عطا
باغ جنت میں ہوگا تیرا آشیاں
نیک کردار و گفتار و صالح عمل
تیرے اطوار تھے، ایک عالم گواہ
سوئے جنت چلا ہے وہ نغمہ سرا
اے بلبلِ خوش نوا ! الودٰاع الودٰاع
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







