اے تسکینِ دل دور جب سے گئے تم
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaاے تسکینِ دل دور جب سے گئے تم
ہے دل منجمد اور دھڑکتا نہیں
نہیں چاند آتا نظر آسماں پر
اسی دن سے جیسے چمکتا نہیں
بہاروں کا موسم ہے لیکن ترے بن
کوئی پھول اب تو مہکتا نہیں
محبت میں ایسا گرفتار ہے دل
کہ یادوں سے بالکل نکلتا نہیں
بہت غیر لیتے ہیں اب نام تیرا
مگر یہ دیوانہ تڑپتا نہیں
بدلتی ہے تقدیر انسان ورنہ
یہ انسان خود سے بدلتا نہیں
بڑھا جب سے خوف خدا قلبِ ضیغم
حسینوں سے بالکل مچلتا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






