اے جانِ غزل، اے جانِ وفا ہم تجھ کو ہردم یاد کریں

Poet: Johar Mumtaz By: johar mumtaz, lahore

اے جانِ غزل، اے جانِ وفا ہم تجھ کو ہردم یاد کریں
میری پلکوں پہ ٹھہرے آنسو تجھ سے وصل کی فریاد کریں

کبھی ہنستے ہیں ،کبھی روتے ہیں، تیرے ہجرِ طویل میں
تیری وفا پر یقین کرنے کو ہم نئے بہانے ایجاد کریں

تیرا غم سے سامنا ہو اگر، کیسے دلِ شکستہ سہے یہ
رہتے ہیں اسی فکر میں ہم، کیسے تجھ کو شاد کریں

وہ کہتے ہیں بے دخل کر دیں اُنکو کو ہم اپنے دل سے
کوئی اُن سے پوچھے کیسے اپنے دل کو ہم برباد کریں

اس زمانے کے ظلم و جبر کو کیونکر روک سکوں ہوں جوہر
محبت دیتی ہے اختیار اُن کو کہ وہ ہم پہ اسبتداد کریں
 

Rate it:
Views: 475
08 Aug, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL