اے خدا جسم میں تو نے یہ بنایا کیا ہے

Poet: امت شرما میت By: Adnan, karachi

اے خدا جسم میں تو نے یہ بنایا کیا ہے
دل تو یہ ہے ہی نہیں پھر یہ دھڑکتا کیا ہے

عشق کی شاخ پہ آئے گا چلا جاتا ہے
دل کے پنچھی کا بھلا ٹھور ٹھکانہ کیا ہے

ہر نشہ کر کے یہاں دیکھ چکا ہوں یاروں
بھول جانے کا اسے اور طریقہ کیا ہے

تیری یادوں میں بہائے ہیں جو آنسو اتنے
آنکھ بھی پوچھ رہی ہے کہ بچایا کیا ہے

یوں ملاقات کا یہ دور بنائے رکھیے
موت کب ساتھ نبھا جائے بھروسہ کیا ہے

ہجر کے بعد یہ سوچو کہ کہاں جاؤ گے
ہم تو مر جائیں گے ویسے بھی ہمارا کیا ہے

میتؔ خوابوں کی خماری سے نکلنے کے باد
اس سے اک بار تو پوچھو کہ بتاتا کیا ہے

Rate it:
Views: 774
11 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL