اے خدا دیکھ ذرا ،،، حالت کشمیر
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT ہر سمت بکھری پڑی ہیں لاشیں
مردہ ہو گئی ہیں سب خواہشیں
روٹی کی جگہ گولیاں کھانے کو ملتی ہیں
لکڑی کے طور پر ہماری ہڈیاں جلتی ہیں
اے خدا تیری نگری میں ہم کیسے آزاد ٹھہرے
کہ سونے جاگنے پر بھی لگ گئے ہیں پہرے
بیٹے ، بیٹیاں اپنی جنتوں سے محروم ہو رہے ہیں
بے گناہ ہر لمحہ مظلوم ہو رہے ہیں
ظلم و ستم کے حکمران گھس گئے ہیں یہاں
بوند بوند کے لیے بچے ترس گئے ہیں یہاں
ہمارے گھروں کی دیواریں گرائی جا رہی ہیں
با پردہ عورتوں کی قبائیں اٹھائی جا رہی ہیں
خون کی نہریں جاری ہیں ہر طرف
خوف کے طوفان طاری ہیں ہر طرف
اپنی جان کا امان کس سے مانگیں
جب تو ہی نہیں سنتا جس سے ما نگیں
لطف بجھ سا گیا ہے عید میلوں کا
ہماری وادی میں سماں ہے جیلوں کا
امتیاز ہر جاں پہ اک قیامت ٹوٹتی ہے ہر گھڑی
یہاں بارش کیطرح لگتی ہے خون سے جھڑی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






