اے خدا دیکھ ذرا ،،، حالت کشمیر

Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT

 ہر سمت بکھری پڑی ہیں لاشیں
مردہ ہو گئی ہیں سب خواہشیں

روٹی کی جگہ گولیاں کھانے کو ملتی ہیں
لکڑی کے طور پر ہماری ہڈیاں جلتی ہیں

اے خدا تیری نگری میں ہم کیسے آزاد ٹھہرے
کہ سونے جاگنے پر بھی لگ گئے ہیں پہرے

بیٹے ، بیٹیاں اپنی جنتوں سے محروم ہو رہے ہیں
بے گناہ ہر لمحہ مظلوم ہو رہے ہیں

ظلم و ستم کے حکمران گھس گئے ہیں یہاں
بوند بوند کے لیے بچے ترس گئے ہیں یہاں

ہمارے گھروں کی دیواریں گرائی جا رہی ہیں
با پردہ عورتوں کی قبائیں اٹھائی جا رہی ہیں

خون کی نہریں جاری ہیں ہر طرف
خوف کے طوفان طاری ہیں ہر طرف

اپنی جان کا امان کس سے مانگیں
جب تو ہی نہیں سنتا جس سے ما نگیں

لطف بجھ سا گیا ہے عید میلوں کا
ہماری وادی میں سماں ہے جیلوں کا

امتیاز ہر جاں پہ اک قیامت ٹوٹتی ہے ہر گھڑی
یہاں بارش کیطرح لگتی ہے خون سے جھڑی

Rate it:
Views: 535
23 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL