اے دوست! تُو نہ میرا غمکھار بن
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL , Gujranwalaاے دوست
اے دوست! تُو نہ میرا غمخوار بن
کہ میرے غم بے تحاشہ ہیں
میرا تن ہے گھائل کہی زخموں سے
تُو اکیلا کس کس کی دوا کرئیگا
مجھے چھوڑ دے میرے حال پے
تُو نہ اپنی خوشی برباد کر
نہ کر ضائع وقت میرے علاج میں
نہ اشک بہا میری حالت پے
مجھے روگ لگے ہیں جو جو بھی
ابھی ایجاد نہیں ہوئی دوا اُس کی
میں مر جاؤنگا تڑپ تڑپ کے
جان نکل جائے گئی سسک سسک کے
تُو اُداس نہ بیٹھ پاس میرے
تُو نہ میرے غم میں پریشان ہو
مجھے مرنے دے مجھے مرنے دے
تُو اپنی زندگی کا خیال کر
میں نہ فائدہ مند تری جان کا
البتہ سبب ہوں ترے نقصان کا
میری بات سمجھ نہ دیر کر
تُو چلا جا مجھے چھوڑ کے
اے دوست! تُو نہ میرا غمخوار بن
نہالؔ گل
تُو اپنی زندگی کا خیال کر
میں نہ فائدہ مند تری جان کا
البتہ سبب ہوں ترے نقصان کا
میری بات سمجھ نہ دیر کر
تُو چلا جا مجھے چھوڑ کے
اے دوست! تُو نہ میرا غمخوار بن
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






