اے دوست تیرا دل بہلا رہا ہوں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamاے دوست تیرا دل بہلارہا ہوں
جو ذہن میں آتاہےلکھےجارہاہوں
یہ غزل ہےیا کےنثری نظم ہے
میں یہ فیصلہ نہ کرپارہا ہوں
یہ لکھتےہوئےآنسوبہارہا ہوں
اتنا تو بتاکیا میں تجھےیادآرہاہوں
میری شاعری پہ غور نہ کرنادوست
سمجھ لے مجبوری میں لکھےجارہاہوں
زندگی میں کسی کےاتنےناز نہیں اٹھائے
جیسےآج کل تیرے ناز اٹھا رہا ہوں
میری بیگم نےاگر گھر سےنکال دیا
پھر سمجھ لینا میں تمہارےپاس آرہاہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






