اے راز مجھے آج مجھی سے ملا کے لا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillچپکے سے آئینے کی حقیقت چرا کے لا
اے راز مجھے آج مجھی سے ملا کے لا
کب سے میرا نصیب ترستا ہے ضیا کو
مٹھی میں کبھی یاد کے جگنو دبا کے لا
تم کو بھی داد حرف کا آ جائے سلیقہ
دل کو نگار حسن سے جا جا ملا کے لا
ممکن ہے اب بھی ان سے صدا قیس کی آئے
صحرائے نجد سے ذرا پتھر اٹھا کے لا
اے شوق کی معراج لب یار سے جا کر
یونہی کبھی خمار کے موسم چرا کے لا
کس نے کہا چکور کی بے لوث ادا کو
جوش جنوں پہ چاند کی کرنیں سجا کے لا
آیا ہے تیرے شہر میں اک شخص یگانہ
پلکوں پہ اسکی پھونک سے شمعیں جلا کے لا
مدت سے ڈھونڈتے ہو ناں آب حیات کو ؟
جا اب کے میرے خون میں آنسو ملا کے لا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






