اے روپ متی
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiاے روپ متی
ا ے من موہنی
پیاری پیاری سوہنی سجنی
ہو سُر بھی تم، سنگیت بھی تم
من میت بھی تم اور پریت بھی تم
کیا تم پہ کویتا، گیت لکھیں
خود مدھر سُریلا گیت ہو تم
من میں جو پریت تمھاری ہے
کن لفظوں میں وہ پریت لکھیں
لفظوں کی کھوج میں نکلے تو
اک لفظ نہ اپنے ہاتھ آیا
جو سچا روپ تمھارا دے
اک اکشر ہم نے نہ پایا
پر پریمیکا، گوری گوری
ہم نے بھی یہ دُھن نہ چھوڑی
جنگل کی ستھری برکھا سے
چندن سی بوندیں بھر لائے
جا پہنچے دور جزیروں پر
جھولی میں سیپیں دھر لائے
چاندی سا جھاگ سمندر کا
ہم کھینچ کھانچ کر گھر لائے
کوئل سے مانگی کوک اس کی
چم چم جگنو لے کر آئے
ڈالی پہ جو پہلے پھول کھلے
وہ جا کے سویرے توڑ لیے
سُر لے آئے ہم جھرنوں کے
اور راگ لے آئے لہروں کے
سب دل کے پنے پر رکھا
انھیں اکشر کرکے گیت کیا
اب گیت سنانے آئے ہیں
سجنی کو منانے آئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






