اے عشق ابھی مجھے آواز مت دو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیں ابھی سوچوں
کے جنگل میں ہوں
میں ابھی امیدوں کے
آنچل میں ہوں
میں ابھی خامسشیوں
کے بدلوں میں ہوں
میں ابھی بارش کی
باندوں میں ہوں
میں ابھی تاروں کے
چمکنے میں ہوں
میں ابھی پانی کے
جھرنوں میں ہوں
میں ابھی دعاوں کے
لفظوں میں ہوں
میں ابھی زمین کے
چلنے میں ہوں
میں ابھی نادانی کے
پہلے قدم میں ہوں
میں ابھی نیند کے آغوش میں ہوں
میں ابھی بچپن کے جوش میں ہوں
میں ابھی گڑیا کھلونوں
کے شوق میں ہوں
اے عشق ابھی مجھے آواز مت دو
میں ابھی جینے کی عمر میں ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






