اے عید! تو ہی بتا کس کو حال دل سناتے
Poet: Tasleem Ahmed Dani By: Tasleem Ahmed Dani, Islamabadاے عید! تو ہی بتا کس کو حال دل سناتے
ہوتا کوئ ہمارا اپنا تو ہم بھی عید مناتے
چھائ ہوئ ہم پےآج ادای ہی اداسی رہی
لمحہ لمحہ ہم کو ان کی ہی یاد آتی رہی
ان کی یاد ہی تھی جو دل کو بہلاتی رہی
یادیں نہ ہوتیں تو ہم کدھر جاتے
ہوتا کوئ ہمارا اپنا تو ہم بھی عید مناتے
پھولوں کی طرح ہم بھی آج کھلے ہوتے
مقدر سے اگر وہ ہم کو آج ملے ہوے
جہاں پیار ہو وہاں نہیں شکوے گلے ہوتے
پیار بھرے وعدے کرتے پھر دل جان سے نبھاتے
ہوتا کوئ ہمارا اپنا تو ہم بھی عید مناتے
اک مسکراہٹ جو لب پہ سجائے بیٹھے ہیں
نجانے کتنے غم دل میں چھپائے بیٹھے ہیں
وہ سمجھتے ہیں کہ خوشیاں دامن میں پھیلائے بیٹھے ہیں
کاش ہم بھی دانی آج خوشیاں لٹاتے
ہوتا کوئ ہمارا اپنا تو ہم بھی عید مناتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






