اے غم کی رات ترا یہ غبار ختم ہوا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااے غم کی رات ترا یہ غبار ختم ہوا
ہمارا زندگی پہ اختیار ختم ہوا
چلو نہ بند ہیں ویران رات کی آنکھیں
سحر طلوع ہوئی انتظار ختم ہوا
گزار لیں گے خزاؤں سے پھر گلے مل کر
ہمارے آنے پہ موسم بہار ختم ہوا
اے زندگی پھر اشاروں میں بات مت کرنا
ترا مقام ، ترا اعتبار ختم یوا
ہمیں یہ ضد ہے کہ تجھ سے کبھی نہ مانگیں گے
ترے وصا ل کا منظر ،، خمار ختم ہوا
حسیں رتوں میں مہکتی ہوئی بہاروں میں
بہار ہو نہ ہو جشنِ بہار ختم ہوا
تو اپنی ذات پہ اتنا نہ مان کر وشمہ
تو مجھ کو چھوڑ نہ میرا بھی پیار ختم ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






