اے فلسطیں! اے مقدس سرزمینِ عالَمیں
Poet: ارحم شامؔی By: ارحم شامؔی , Faisalabadاے فلسطیں! اے مقدس سرزمینِ عالَمیں
اے سکونِ انبیاء اے قبلۂ اولئ دیں
اے پناہ گاہِ براھیم و سلیمان و کلیم
تیری حرمت پر فدا تیرے مکین و نامکیں
تُو زمینِ عِجز ہے تُو سینۂ صد معجزات
تُو جنابِ عیسیٰ و مریم کی صبحِ دلنشیں
قطرۂ خوں ہر ترا اک قطرۂ تطھیر ہے
ہر مکیں جامِ شہادت کو سمجھتا انگبیں
میں ہوں شاہد تُو تنِ تنہا رہا محوِ عذاب
تھے اخوت کے جو نادی مر گئے وہ مسلِمیں
اے فلسطیں! ارضِ محشر! اے زمینِ انبیاء!
تیری عظمت کیا کہوں تجھ میں صحابہ تہ نشیں
کھو گۓ اس عالَمِ نابود میں مردانِ حق
توڑتے ہیں ممبر و محراب تجھ پہ واعظیں
تف ہے ایسے حکمرانوں پر ہیں جو مردہ ضمیر
ایسے بیہودہ مسلماں مثلِ ناگِ آستیں
سب یزیدی ہیں جو اس ظلمت کی شب خاموش ہیں
تُو ہے عظمت کا نشاں تُو ہے حُسَیں کا جانشیں
تُو اُسی کرب و بلا کا منظرِ خونریز ہے
جس میں پیاسے تھے حسینی بالمقابل ہر بے دیں
وقت آزادی ترا میرے فلسطیں ہے قریب
تیری آزادی پہ قرباں لاکھ شامیٓ مہ جبیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






