اے مرے صاحب !
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکاے مرے صاحب
یہ کیسی محبت ھے تری
صبح نکلتے ہو با وضو ہو کر
پھول ، خوشبو کی بات کرتے ہو
پیار و الفت کے گیت گا تے ہو
اپنی بانہوں سے لوریاں دے کر
اپنی سانسوں سے مہکا کے مجھے
تیری آنکھوں سے شبنمی قطرے
میرے دل کی زمیں پہ گرتے ہیں
مسحور رہتی ہوں تیری باتوں سے
مگر
اے مرے صاحب
شام ڈھلتے ہی سورج کی طرح
تم بھی آنکھیں کیوں پھیر لیتے ہو
اور اکیلی میں شب کے بستر پر
تڑپتی رہتی ہوں دن نکلنے تک !!!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






