اے مہربان ڈرنے لگا ہوں تیری مہربانیوں سے
Poet: احسن فیاض By: احسن فیاض, Badinستاروں کو جو چھو کر دیکھتے ہیں
سکندر ہیں مقدر دیکھتے ہیں
سمندر میں ہمیں دکھتے ہیں قطرے
"وہ قطروں میں سمندر دیکھتے ہیں"
دریا سے بھی کچھ آگے ہے منزل
زمیں تم، ہم تو امبر دیکھتے ہیں
ہماری منتظر ہیں شاہراہیں
پہ سویا ہم کو بستر دیکھتے ہیں
نکلنا بھی ضروری ہے صفر پر
کبھی صحرا کبھی گھر دیکھتے ہیں
بنایا جب سے شیشے کا گھروندا
ہر اک پتھر کو ڈر کر دیکھتے ہیں
خزانے ہیں مقدر میں انہی کے
جو ہر سیپی میں گوہرِ دیکھتے ہیں
ندیم ہم منتظر کس چیز کے ہیں
کہ بے عملی کو گھر گھر دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






