اے میری جاں
Poet: فریحہ اقبال By: Fareeha Iqbal, Attockاے میری جاں ، اے میرے سوز جگر
آ میری آغوش میں تجھے اس قدر پیار دوں
بھر کے تجھے اپنی ان بانہوں میں
تیری ساری تھکن اتار دوں
تیری الجھی بگڑی زلفوں کو
ہاتھوں سے اپنے سنوار دوں
تیرے ہاتھ پہ رکھ کر ہاتھ اپنا
وفا کے قول و قرار دوں
ا
داسی کو تیری مٹا کے
اس خزاں کو نئ بہار دوں
تیرے دل سے کبھی نہ اتر سکے
محبت کا اتنا ادھار دوں
سنگ تیرے یہ جیون اپنا
ہنستے ہنساتے گزار دوں
وقت آنے پر میری جاں
یہ جاں بھی تجھ پہ وار دوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






