اے میری ماں

Poet: فرزین ایلی By: فرزین ایلی, Jamshoro

اے میری ماں
مت ہو حیراں، نہ ہو پریشان اے میری ماں
مجھ سے پہلے تونے بھی تو سہے تھے یہ
نشان اے میری ماں
میرے زخموں پر تونے مرھم لگائے
تونے مگر کس سے کیے تھے بياں اے میری ماں
تیری دعا نے تو دردِ بوجھ اٹھایے میرے
تیرے درد کیوں نہیں رکتے کیوں ہيں رواں اے میری ماں
چھپا لیا آنچل میں اپنے، پی لیے آنسو بھی میرے
تیرے آنسو مگر ابھی تک ہيں عیاں اے میری ماں
میرے کرب کا بوجھ بھی سہا اپنی ڇاتی پر
جب سے جنمی ہے تب سے چھلنی ہے کس نے نہ دیا
تم پہ دھیان اے میری ماں
آنسو پی کے مسکراتی ہے، کرتی تک شکایت بھی نہیں
رنج دیے ستايا بھی، دی مگر تم نے دعا خدا تیرا نگہبان اے میری ماں
تیری عظمت کا تقدس میں کیا لکھوں، میں کیا جانوں
خدا بھی بنا کے الجھا رہا یہ رشتا نہیں جان سکا تیری شاں اے میری ماں.
 

Rate it:
Views: 315
12 May, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL