اے میرے دوست تو اک بار محبت کر لے
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratعشق ناسور ہے تو اس سے بغاوت کر لے
حوصلہ ہے پھر دل سے بھی عداوت کر لے
کیا کہوں تم سے میں شب بیداری کا سبب
اے میرے دوست تو اک بار محبت کر لے
آنکھ کھلے گی اور ٹوٹ جائے گا پتھر کا بھرم
تو اے نادان کسی اور کی عبادت کر لے
یہ جوانی جو تیرے نام سے بدنام رہی
اسے اپنانے کی کسی روز جرات کر لے
دے رہا ہے اجالے میری آنکھوں کے عوض
دل کی یہ ضد ہے پھر بھی یہ تجارت کر لے
مار دے گا تمہیں دوستی کا بھرم اک دن
مظہر ابھی سے بچنے کی کوئی صورت کر لے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






