اے میرے منصف!
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatاے میرے منصف
یہ تو نےجسطرح انصاف کا پلڑا اٹھایا ہے
اسی سے میرے قاتل کو جفا کا زعم آیا ہے
اسی کا بار گرتا ہے میری بے ربط سانسوں پر
اسی نے میری ہر آوازکو نعرہ بنایا ہے
تمہیں خبر ہے
ترے وکیلوں نے میرے ہونے کی سب دلیلں فروخت کر کے
بچا کہ اپنے فرات سارے، میری سبیلیں فروخت کر کے
مجھے یہ پیغام دے دیا ہے
کہ اپنے ’وانی‘ تیار کر لو
جو تجھکو تیرا پتہ بتائے وہ اک نشانی تیار کر لو
سجا کہ مقتل، لٹا کہ گوہر، تم وہ کہانی تیار کر لو
کہ جو سنے وہ دہل سا جائے
کہ جو سنائے وہ جاں بلب ہو
کہ جس جگہ پر سنائی جائے
وہاں پہ پھٹکار ہو، غضب ہو
کوئی وہاں سے کبھی نہ گزرے
کسی کو جنت کی نہ طلب ہو
اے میرے منصف
میں مشتعل ہوں، میں مضطرب ہوں
ترے اصولوں سے منحرف ہوں
ہیں پاؤں مشتاق بیڑیوں کے
جنوں کی زد میں ہوں، مختلف ہوں
میں ظلم و دہشت کی اس فضا میں
تیری عداوت کا معترف ہوں
مجھے قسم ہے!
میں اپنے خوں سے نگار ہستی سنوار دونگا
میں مٹ بھی جاؤں تو زندگی کو نکھار دونگا
مگر اے منصف
تیرے لیے پھر اماں نہ ہوگا
کہیں بھی تیرا مکاں نہ ہوگا
نہ کوئی منصب، نہ کوئی درجہ
کوئی بھی تیرا درباں نہ ہوگا
تجھے یہ برھان مار دیں گے
کہیں بھی کوئی نشاں نہ ہوگا
تیری ہر ایک سانس حبس ہوگی
کہیں کوئی سائباں نہ ہوگا
مجھے آزادی ملے گی لیکن
تیراپھر ختم زنداں نہ ہوگا
اے میرے منصف یہ جان لو کہ
تیرا پھر ختم زنداں نہ ہوگا
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






