اے وشمہ بتا دے بد خوابی کس کے لئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanاے وشمہ بتا دے بد خوابی کس کے لئے
تو دل ہی دل میں یہ دل جوئی کس کے لئے
زخم تازے ہیں چوٹ دل پر کس کے لئے
توں اشک کے موتی بہائے کس کے لئے
یہ اشک قربانیاں بتا رہی ہے کس کے لئے
یہ اتنی دل جوئی ہے کس کے لئے
اشکوں نے دھویا منہ کئ بار کس کے لئے
نہ دھوئی سیائی دامن سے کس کے لئے
اپنے دل سے آپ ہوئیں بدنام کس کے لئے
ہم کیوں بد گوئی کرئے کس کے لئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






