اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
Poet: Ashfaq Ahmed Khattak By: Ashfaq Ahmed, Karachiنظم کا اُردُو ترجمہ ملاحضہ کیجءے،
اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
تم کسی کی دل آذاری نہیں کرتے لیکن ہم کرتے ہیں،
نہ تم بے حس ہو نہ ظالم،
ہم ہی ظالم ہیں، تمہیں بھی مار ڈالتے ہیں،
انصاف پر یقین ہم سے زیادہ ہی ہے،
اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
اللہ پر توکل ہم سے زیادہ رکھتے ہو،
تم ہر وقت عبادت کرتے ہو، ہم پانچ نمزوں تک سے غافل،
تم چوریاں نہیں کرتے صرف گھر اور کھانا ہے ضرورت،
قیامت کے دن کی فکر سے بھی آذاد،
نہ سخت پوچھ گچھ، نہ سخت فیصلے نہ سخت سزاءیں،
خدا نے بھیجا اپنی عبادت کے لءے، ہم لگے کمانے مال،
پاس میں پڑا سونا نہیں چُراتے، گھر اور کھانا ہی اہم ہے،
اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
جہاں دل چاہا، اُڑ کر چلے جاتے ہو،
نہ تمہیں پاسپورٹ کی ضرورت ہے نہ ویزا کی،
گرمی سے بھاگ کر جا سکتے ہو، سردی بھاگ کر آسکتے ہو،
نہ تم ایشیا کے ہو، نہ ہی کوءی کالا اور گورا ہوتا ہے تمہارے درمیان،
نہ ہی کسی کو حقارت سے دیکھتے ہو،
زمین پر امن کا نشان ہو،
تم نے اپنی ہی تباہی کا سامان تیار نہیں کیا،
تمہیں خود سے محبت ہے اور ہم اپنے خود ہی کے دشمن،
اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
تم جنگیں نہیں لڑتے، پھر بھی پوری دُنیا تمہاری ہے،
تمہیں کسی گھر میں جانے کے لءے کسی کی اجازت درکار نہیں،
تم معصوم ہو، اپنے حقوق تک نہیں مانگتے،
اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
جہاں دل کرے، پوری آزادی سے اُڑ کر چلے جاتے ہو،
نہ تم گناہ کرتے ہو، نہ ہی زلزلے لانے کا باعث،
زلزلہ پہلے سے جان لیتے ہو اور بھاگ بھی سکتے ہو،
تمہارے درمیان کوءی امیر اور غریب نہیں ہوتا،
نہ تم کوءی وکیل ہو اور نہ ہی پولیس والے،
نہ ہی بے گناہوںکو قید کرنے کے لءے قید خانے بناءے،
نہ ہی تمہارے پاس قتل کرنے کا اجازت نامہ ہے،
نہ تم مجرم ہو اور نہ فسادی،
اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
تم نے انسان پر احسانات کءے، نوح (علیہ السلام )کو مطلع کیا،
ابابیلو، جن ظالموں کو ہم نہ نبٹ سکے، انہیں ختم تم نے کیا،
اپنی چونچوں میں پانی لے کر پیغمبر کی جان بچانے کی کوشش کی،
اے پرندے تُو تو ہم سے بہتر نکلا۔
تمہیں اپنے ساتھی پرندوں سے محبت ہے،
شادی (جوڑا بنانے) کے لءے تمہارا معیار صرف محبت ہے،
نہ رنگ دیکھتے ہو، نہ دولت نہ شہریت،
تمہیں کچھ نہیں چاہیءے، نہ بندوق، نہ محل، نہ گاڑی نہ بنگلہ،
یقینا، تم ہم سے ت بہتر ہی ٹہرے،
.................. اشفاق احمد خٹک۔ کراچی، پاکستان۔ ۱۹۹۲.
http://ashfaq.r8.org
یہ شاعری سب سے پہلے ہانگ کانگ میں ایک اخبار نے شاءع کی، بعد میں اس کا ترجمہ چالیس سے زیادہ زبانوں میں ہوا۔
ایک سال تک اس شاعری کو اقوامِ متحدہ کے مرکزی دفتر میں فن و ثقافت کے مرکش میں آویزاں کیا گیا۔
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






