اے چاند تم تو گواہی دو اس رات کی
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadاے چاند تم تو گواہی دو اس رات کی،
جب اس نے میرا رخسار چوم کر کہا تھا،
قسم جاناں!
مجھے میری چاہتوں کی تیری راہوں میں چاند بن کر بکھر جاؤں گا.
اے چاند تم ہی تو ہو اس کے وعدے کے گواہ،
جس پر میں نے صدیاں گذار دی،
"وہ بھولے بیٹھا ہے مجھے اک اداس شام کی طرح،
بیرن یادوں کے جھلکتے جام کی طرح"
اے چاند" تم تو میری یاد بن کر اس کے آنگن میں اتر جاؤ،
میرا رخسار لے کر اس کی نگاہوں میں سما جاؤ،
پھر اسے باور کراؤ اک بھولی کہانی،
اک انتظار کرتی لڑکی کی اداس زندگانی،
اس کے وعدے کی آس پر بیٹھی اک پاگل دیوانی،
مجھے کہتا تھا تم ہو میرے دل کے عالم کی رانی.
"اے چاند "
اب وہ کیوں بدل گیا ہے.
مجھے ایک سال کا کہہ کر گیا تھا.
اب تو اک صدی گذر گئی،
"اے چاند"
مجھے کہتا تھا
مجھے جب بھی تیری یاد آئے گی
میں چاند سے تیری باتیں کروں گا،
چاند سے تیرا پوچھا کروں گا،
پوچھوں گا
کیسی لگتی ہے میری جاناں کی زلفوں سے ابھرتی مستی
کیسی لگتی ہے میری جاناں کی آنکھوں سے اٹھتی ہستی
"اے چاند"
بتاؤ ناں
کیا وہ تم سے میری باتیں کرتا ہے؟؟؟
اے چاند تیری چاندنی میں وہ محبت کی آخری رات تھی
اے چاند
"میری رات کی صبح لاؤ"
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







