اے کاش وہ طلبگار ہمارا تو ہو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.Aگہری آنکھوں میں ڈوب جانے کا اشارہ تو ہو
کنارے کے اس پار بیٹها کوئی ہمارا تو ہو
رکه دیں جان ہتھیلی پر نکال کر
اک بار اس نے پکارا تو ہو
ہم دے دیں اپنا دیدار اسے مگر
اس نے اپنی نظر کو سنوارا تو ہو
پهول بچها دیے قدموں میں جس نے
اس نے ہاتھ بهی تهاما تو ہو
اک شام جس کہ کاندھے پر زلفیں
ہماری خاطر اس نے مشکل وقت گزارا تو ہو
میں چل پڑهوں بناء سوچے جس کے ساتھ
اے کاش وہ طلبگار ہمارا تو ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






