بئتے ہیں

Poet: Aashi By: Ayesha, killeen

دلوں کے درد کبھی خود دوا بھی بنتے ہیں
جو جرم کئے بھی نہ ہوں وہ سزا بھی بنتے ہیں

وفا کے دیپ جلانے کا فائدہ کیا ہے
وفا کے نام پر بہت حادثے بھی بنتے ہیں

کبھی تو اپنی خوشی سے ملا کرو ہم سے
ہمارے بلانے پہ بہت سے فسانے بنتے ہیں

تمام شب یہی سوچ کر گزاری ہے
صبح کو دیکھیں کہ کیا اب بہانے بنتے ہیں

زباں سے کچھ نہ کہیں پر یہ آنکھوں کے آنسو
جب بے وجہ ہی بہیں تو فسانے بنتے ہیں

تمھیں خبر ہے کہ چاہت کی راہ میں آ کر
محبتوں کے بہت امتحاں بھی بنتے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ پہلا قدم اٹھانے پر
اکیلی راہ پر بہت کارواں بھی بنتے ہیں

Rate it:
Views: 456
28 Sep, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL