با ادب با ملاحظہ ہوشیار آجائے
Poet: UA By: UA, Lahoreبا ادب با ملاحظہ ہوشیار آجائے
مصلحت کی توڑ کے دیوار آجائے
آنکھوں کو ہے جِسکا انتظار آجائے
دِل ہوا ہے جِسکا طلبگار آجائے
لبوں پہ ہے جَسکے لئے پکار آجائے
جو لے گیا ہے روح کا قرار آجائے
ہو کے بادل پہ سوار آجائے
آجائے وہ درّ ِ شہوار آجائے
ہو گئے ہیں جِس کے بیمار آجائے
کاش وہ مسیحا اِک بار آ جائے
دیکھ کر جِسے خود پہ پیار آجائے
ہاں وہ ہی پیاری سرکار آجائے
کر کے بیٹھی ہے سنگھار آجائے
دلربا کو لینے دِلدار آجائے
با ادب با ملاحظہ ہوشیار آجائے
مصلحت کی توڑ کے دیوار آجائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







