بات بات پر کیوں آئے پھرتے ہیں
Poet: Asad By: Asad, mpkعشق کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں
دل کو ھم دیوانہ بنائے پھرتے ہیں
دل کو منظور ھے کسی پر مر مٹنا
ہائے یہ کیسی شرط لگائے پھرتے ہیں
وہ غیر کا غصہ کیوں نکالے ھے ھم پر
بات بات پر کیوں آئے پھرتے ہیں
ھم ہیں مجنون یا پھر دیوانے کوئی
ہر بار کیوں پتھر کھائے پھرتے ہیں
کیوں نہیں دیتے وہ اپنے گھر کا پتہ
کیوں ہمیں در بدر پھرائے پھرتے ہیں
لوگ کیوں باز نہیں آتے یار اسد
کیوں دو دلوں میں آگ لگائے پھرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






