بات بچوں کی تھی لڑنے کو سیانے نکلے

Poet: آتش اندوری By: مصدق رفیق, Karachi

بات بچوں کی تھی لڑنے کو سیانے نکلے
پھر عجب کیا ہے کہ بچے بھی لڑاکے نکلے

دھیان ماں رکھتی تھی میرا وہ زمانے نکلے
ہیں یوں اب روز سویرے سے کمانے نکلے

آم کے باغ سے جب سے ہیں پرندے غائب
بعد اس کے کہاں پھر آم رسیلے نکلے

پوٹلی جس کے لئے لڑتی رہیں اولادیں
ماں کی اس پوٹلی میں صرف جھروکے نکلے

یہ تو کل یگ ہے کھرا اس میں نہیں ہیں کوئی
مجھ کو شکوہ نہیں سکے مرے کھوٹے نکلے

پھر غریبوں کی شکایت کا خدا حافظ ہیں
جب وزیروں کے امیروں ہی سے رشتے نکلے

گرد جب صاف ہوئی سب نے یہ منظر دیکھا
جو نظر آتے تھے اونچے وہی بونے نکلے

ابتدا پھر سے ہے ایک اور سفر کی آتشؔ
بعد مرنے کے بھلے پیروں سے جوتے نکلے
 

Rate it:
Views: 299
18 Jun, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL