بات کرتے ہیں جب ہاتھ میرا رکھ کے ہاتھ میں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaلہجہ دلنشین لگتا ہے اُس کی ہر بات میں
بات کرتے ہیں جب ہاتھ میرا رکھ کے ہاتھ میں
کتابوں میں جو تصویرِ یار رکھ کے پڑھتے ہیں
یقیناًفیل ہو جائیں گے وہ امتحانات میں
غافل عاشق ہو جاتا ہے تمام جہان والوں سے
تصورِ یار رہتا ہے بس دن میں رات میں
عشق والے شاعری بھی سیکھ جاتے ہیں یارو
شعروں کی روانی ہوتی رہتی ہے جذبات میں
مدہوش اِس قدر ہو جاتے ہیں عشق والے
بے خبر وہ بھیگ جاتے ہیں اکثر برسات میں
پکا ثبوت ہے کہ دل لگتا نہیں کہی بھی
عشق کی ابتداء میں محبت کی شروعات میں
کومل گلابوں کی مہک آتی ہے ورکوں سے
نہال نام اُس کا جب لکھتا ہوں غزلات میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






