باتیں بہت جمع ہیں جو کرنی ہیں تم سے مل کر
Poet: AbuAbdul By: Jamshed, Dubaiباتیں بہت جمع ہیں جو کرنی ہیں تم سے مل کر
لڑنا بھی تم سے میں نے، مانو گی تم سے مل کر
تم آتے بھی نہیں جلدی ، کرتے ہو بہت بہانے
ذرا آؤ تو اس دفعہ تم پوچھوں گی تم سے مل کر
دن تو گزر ہی جاتا راتیں بھی کٹ رہی ہیں
کتنی ہوئی اداسی بولوں گی تم سے مل کر
جب سے تم گئے ہو لگتا نہیں دل کہیں بھی
کیوں چپ سی ہو گئی ہوں بولوں گی تم سے مل کر
آتی ہیں یاد مجھ کو باتیں سبھی پرانی
بتاتی ہوں سب کو کیسے دہراؤں گی تم سے مل کر
تم آ رہے ہو ملنے اسی بات کی خوشی ہے
کیسے ہے پیار کرنا سوچوں گی تم سے مل کر
لگے زندگی ادھوری تم بن میرے صنم
جانے نہ دوں گی واپس روکوں گی تم سے مل کر
کیا کچھ ہے کھو دیا غم زندگی میں ہم نے
اک اک بتا کے تم کو روؤں گی تم سے مل کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






