بادل کی طرح چھائے، جب چھائے ہو، برسو بھی
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaبادل کی طرح چھائے، جب چھائے ہو، برسو بھی
بھیگا ہو بدن کچھ تو، اوروں کو خبر ہو بھی
اب ضبط نہیں ہو گا، ارمانوں پہ کیا کیجئے
یہ کیا کہ قریب اتنے آئے ہو تو ترسو بھی
برسوں سے نہیں دیکھا، آنکھوں میں نمی آتے
پتھر کی نہ ہو جائیں، اک بار یہ سوچو بھی
آئے ہیں فقیرانہ اور در پہ صدا دی ہے
جھولی بھی ہے پھیلائی، تُم ہاتھ سے کچھ دو بھی
ناراض رہے کوئی، موقع پہ نہ خوشیوں کے
یاروں کو خبر کرنا، بھولو نہ عدو کو بھی
قاتل بھی ہو اب کیسا، ہتھیار کوئی بھی ہو
مرنا ہی مجھے ٹہرا ، اظہر تو ہو اب جو بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






