بارش ٹپک رہی ہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

بارش ٹپک رہی ہے
چھت برس رہی ہے
چھاجوں برس رہی ہے
کوئی کونہ محفوظ نہیں
بس برس رہی ہے۔ برس رہی ہے
پچھلے برس ادھڑ گئی تھی
بہہ گئی گارے کی پتلی سی تہہ
سوچا تھا کچھ روپے آئیں
منڈھ دوں سیمنٹ کی پتلی سی تہہ
مگر یوں ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کمرے میں بحر ظلمات جل تھل کرتا ہوا
ٹوپی، بالٹی ہر شئے تہہ و بالا کرتا ہوا
پانی کی برسا چھت سے برس رہی ہے
ایک کونے میں لحاف بھیگا ہوا
اسکے اندر میں مذید بھیگا ہوا
بڑا بے تاب سوچ رہا ہوں
کچھ روپے جو کہیں سے ہاتھ آئیں
کمرے کوسیمنٹ کے دو ہاتھ لگائیں
سب سے کہتے پھرتے ہیں
آج موسم بہت اچھا ہے
ہاں کچھ روپے ہاتھ تو
آج موسم اچھا ہے
 

Rate it:
Views: 436
23 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL