باقی ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

ابھی خوابیدہ آنکھوں میں جاگتا خواب باقی ہے
ابھی تک رسم الفت کاسب ادب آداب باقی ہے

ابھی کہنہ مراسم کی بہت سی یادیں قائم ہیں
ابھی نمناک ورقوں میں خستہ گلاب باقی ہے

بہار شب ہوئی رخصت خزاں کا دن طلوع ہوا
مگر محفل میں ابھی تک چنگ و رباب باقی ہے

ابھی سے مہرباں ساقی میں پیالہ کیسے توڑ دوں
ابھی تیری صراحی میں میری شراب باقی ہے

ہم نے تمام قصہ بے باک کر دیا ہے
لیکن تمہاری ضد ابھی حساب باقی ہے

کھلیں گے آہستہ آہستہ پردہ ہائے بام و در
ابھی تھوڑا صبر کر لو ابھی حجاب باقی ہے

نا کردہ گناہوں کی سزا پا چکے بہت
اب کردہ خطاؤں کا ثواب باقی ہے

اپنی کہانی ہم تیری زباں سے سن چکے
ابھی ان سنی میری ان کہی کتاب باقی ہے

عظمٰی میرے سوال بھی میری طرح عجیب ہیں
جواب مل گیا پھر بھی ابھی جواب باقی ہے

Rate it:
Views: 490
24 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL