گزر گیا سامنے سے کوئی کارواں جیسے

Poet: Mubeen By: Mubeen, Islamabad

برسوں کی یہ خانہ ویرانی ہے
آباد ہو دل کا جہاں کیسے

اک چراغ جو جل جائے تو دیکھنا
شیش محل میں ہوتا ہے چراغاں کیسے

پرپیچ گلیاں ہیں خواہشات کی
رستہ بھولتی ہے عقل حیراں کیسے

اس گنبد سے بازگشت جاتی نہیں
ایک لفظ ہوتا ہے دیکھو بیاں کیسے

کوئی حرف شیریں تیرے لبوں سے
بنتا ہے دیکھو نغمہ جاں کیسے

گر یہ قابو میں ہے ضبط کے اب تک
ذرا چھیڑو تو بہتا ہے سیل رواں کیسے

تیری یاد نے سہارا دیا دل کو آج
سرراہ مل جائے کوئی مہرباں جیسے

بیتی ہوئی باتیں یوں یاد آئیں
گزر گیا سامنے سے کوئی کارواں جیسے

Rate it:
Views: 733
25 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL