باپ اور بیٹی
Poet: Habib By: Habib, NAWAB SHAH بیٹی:
مجھے اتنا پیار نہ دو بابا
کل جانے مجھے نصیب نہ ہو
یہ جو ماتھا چوما کرتے ہو
کل اس پہ شکن عجیب نہ ہو
میں جب روتی ہوں بابا
تم آنسو پونچھا کرتے ہو
مجھے اتنی دور نہ چھوڑ آنا
میں روؤں اور تم قریب نہ ہو
میرے ناز اٹھاتے ہو بابا
میرے لاڈ اٹھاتے ہو بابا
تم جان لٹاتے ہو بابا
کل ایسا ہو اک نگری میں
میں تنہا تم کو یاد کروں
اور رو رو کے فریاد کروں
اے اللہ میرے بابا سے
کوئی پیار جتانے والا ہو
میرے بابا مجھ سے عہد کرو
مجھے تم چھپا کر رکھو گے
دنیا کی ظالم نظروں سے
مجھے تم چھپا کر رکھو گےِِ
بابا:
ہر دم ایسا کب ہو پایا ہے
جو سوچ رہی ہو تم میری نور تم
وہ سب تو بس اک مائع ہے
کوئی باپ اپنی بیٹی کو کب
جانے سے روک پایا ہے
سچ کہتے ہیں دنیا والے
بیٹی تو دھن پرایا ہے
گھر گھر کی یہی کہانی ہے
دنیا کی ریت پرانی ہے
ہر باپ نبھاتا آیا ہے
تیرے بابا کو بھی نبھانے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






