بتا اے خوبرو تو چاہتی کیا ہے
Poet: مصحف علی میر By: Mushaf Ali Mir, Rawalpindiبتا اے خوبرو تو چاہتی کیا ہے
تیرے دل میں چھپا کیا
کہہ دے وہ سب کچھ جو توکہنا چاہتی ہے
ورنہ مجھے کوئی اور اپنا شہزادہ بنا لے گی
پر میں بھی مجبور ہوں اے خوبرو
تیرے علاوہ کسی اور کا ہو نہیں سکتا
تیرے سوا کسی اور کا ہاتھ پکڑ نہیں سکتا
اب سب کچھ تیرے ہاتھ میں ہے
کہ مجھ کو بگاڑنا ہے یا سنوارنا ہے
یا میر کو تم نے بھی دیوار سے لگانا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






