بدلتے دیکھے ہیں در کیسے کیسے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابدلتے دیکھے ہیں در کیسے کیسے
رکھے ہیں چہرے پہ سر کیسے کیسے
ہزاروں جستجوؤں کے جلو میں
منازل کا ہے اک ڈر کیسے کیسے
تھی بے معنی یہ میری زندگانی
ذرا دیکھے یہ ہمسر کیسے کیسے
ہماری بے قراری کے موافق
اگر بن جائے خود سر کیسے کیسے
عجب سی دل کو راحت دے گیا وہ
تصور میں تھے شب بھر کیسے کیسے
ابھر آتا ہے دل میں درد میرا
یہ سنتے تھے مقدر کیسے کیسے
کہیں سے ڈھونڈ لا تقدیرمیری
مرے دل میں ہیں گوہر کیسے کیسے
مرے اشعار کے زینے پہ پھر دیکھ
تصوف کے ہیں سخنور کیسے کیسے
تمہاری ذات میں وشمہ وفا کا
اچھلتا ہے سمندر کیسے کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






